🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ احْتِقَارِ الذُنُوبِ الصَّغِيْرَةِ
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9841
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ أَيْ طَعَامُهُمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا فَأَجَّجُوا نَارًا وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا) )
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9841]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 400، والطبراني في الكبير: 10500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3818»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقصود واضح کر دیا ہے کہ پوری زندگی کے معمولی معمولی گناہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مومن و مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے گریز کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9842
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ) )
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے … (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹیاں وغیرہ پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9842]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 5872، وفي الاوسط: 7319، و الصغير: 904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23194»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9843
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9843]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 4243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24919»
وضاحت: فوائد: … مومنانہ تہذیبیہ ہے کہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی برائی کو معمولی تصور کر کے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے، کیونکہ پوری زندگی کی معمولی معمولی غفلتیں اور سستیاں انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9844
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي عَيْنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9844]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11008»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں لوگوں کی تربیت میں آڑے آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو نیکی اور برائی کی صورتوں کا علم ہی نہیں تاکہ وہ نیکیاں کر سکیں اور برائیوں سے بچ سکیں۔ مثلا بے پردگی، تنگ لباس، موسیقی، تہمت بازی، دو رُخا پن، چغلی و غیبت، مکرو فریب، جھوٹ، تمباکو نوشی، شیو کرنا، مردوں کا شلوار اور تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، داڑھی تراشنا، خط کروانا، چہرے سے بال اکھاڑنا، لمبی لمبی مونچھیں رکھنا، ہمسائیوں کو تنگ کرنا، اپنے آپ کو نیک و برتر سمجھنا اور دوسروں کو گھٹیا و کم تر سمجھنا، بے صبری، قطع رحمی، ناراضگی، حد سے زیادہ گپ شپ، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا، تلاوت سے دوری، عورتوں کا تھریڈنگ کرنا، مصنوعی ناخن لگانا، جوڑے باندھنا، وگ لگانا، سلام کا اہتمام نہ کرنا، تصویریں بنوانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ماحصل یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت کی فکر کرے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اپنا مقام سمجھے اور اپنی منزل مقرر کرے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9845
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا فَذَكَرَ مِثْلَ الْأَثَرِ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ ایسے ایسے کام کرتے ہو، …۔ پھر سابقہ قول کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9845]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12631»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9846
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبادہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ آج ایسے ایسے افعال کر جاتے ہو کہ … …۔ پھر سابقہ قول کی طرح بیان کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9846]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21032»
وضاحت: فوائد: … فسق کی دو صورتیں ہیں: کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنااور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا، اس لیے جہاں کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے گا، وہاں صغیرہ گناہوں سے بچنے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں