الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
حدیث نمبر: 9868
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَّارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9868]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقدعنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23586»
وضاحت: فوائد: … زبان کی حفاظت مومن کا عظیم وصف ہے، کسی انسان کی شخصیت کا پتہ دینے کے لیے اس کی زبان ہی کافی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 9869
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9869]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19788»
وضاحت: فوائد: … کفر وشرک، کذب بیانی و دروغ گوئی، لہو و لغویات، گالی گلوچ، سب و شتم، چغلی و غیبت، دوسروں کی توہین، بڑوں کی گستاخی، چھوٹوں سے کرختگی و سختی، والدین کا دل دکھانا، بے راہ روی و بد کاری کی راہ ہموار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری، اس قسم کے سینکڑوں جرائم کا تعلق زبان سے ہے، یہ زبان ہی ہے جس کی وجہ سے صاحب ِ زبان کو کئی مجالس میں ندامت و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ زبان ہی ہے جو باوقار اور سنجیدہ انسانوں کی عظمت و وقار کو مجروح کر دیتی ہے، بہرحال جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، وہ کئی برائیوں سے اجتناب کرنے اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے سے محروم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خطرے والی چیز، جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو، کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زبان کا تعین کیا۔ (ترمذی)
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9870
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9870]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15946»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ آدمی زبان سے ایسا کلمۂ خیر ادا کرتا ہے کہ جس سے کسی کا دل خوش ہو جاتا ہے یا کسی کی ڈھارس بن جاتا ہے یا کسی کی اصلاح ہو جاتی ہے یا کوئی ظلم و معصیت کے ارادے سے باز آ جاتا ہے، یقینا ایسا کلمہ کہنے والے کے لیے باعث ِ اجرو ثواب ہے۔ لیکن بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بندہ کوئی کلمۂ شرّ ادا کر دیتا ہے کہ جس سے کسی کی دلآزاری ہو جاتی ہے یا کوئی اس کی وجہ سے ظلم و معصیت پر تل جاتا ہے یا وہ ایسے تنازعے کو ہوا دیتا ہے کہ طویل جھگڑا اور قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہےیا وہ کسی کی ضلالت و گمراہی کا داعی بن جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی بات کہنے والے کے لیے باعث ِ وبال و عقاب ہو گی اور اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زبانوں کے سلسلے میں محتاط رہیں۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره