🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ مَا جَاءَ فِي شِعْرِ عَبْدِ اللهِ بْن رَوَاحَةَ وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رضی اللہ عنہما
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کے اشعار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9953
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ لَهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ نَعَمْ شِعْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9953]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25585»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9954
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9954]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 712، والنسائي في الكبري: 10834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24524»
وضاحت: فوائد: … پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9955
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُنْشِدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ
۔ ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9955]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3212، ومسلم: 2485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7632»
وضاحت: فوائد: … جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9956
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9956]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد، أخرجه ابوداود: 5015، والترمذي عقب الرواية: 2846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24941»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں