الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِحَارِ وَالْأَنْهَارِ
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 10226
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فُجِّرَتْ أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ الْفُرَاتُ وَالنِّيلُ وَسَيْحَانُ وَجَيْحَانُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار دریا جنت سے پھوٹتے ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10226]
تخریج الحدیث: «أخرجه 2839، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7535»
الحكم على الحديث:
أخرجه 2839
حدیث نمبر: 10227
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ وَكُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10227]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7873»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ((فُجِّرَتْ اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ مِنَ الْجَنَّۃِ: اَلْفَرَاتُ وَالنَّیْلُ، وَالسَّیْحَانُ وَجَیْحَانُ۔)) (مسند احمد) … چار نہریں جنت سے پھوٹتی ہیں: فرات، نیل، سیحان، جیحان۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7873
حدیث نمبر: 10228
عَنْ صَبَّاحِ بْنِ أَشْرَسَ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ إِنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِقَامُوسِ الْبَحْرِ فَإِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فَاضَتْ وَإِذَا رَفَعَهَا غَاضَتْ
۔ صباح بن اشرس سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مد و جزر کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: ایک فرشتے کو سمندر کے درمیانے اور بڑے حصے پر مقرر کیا گیا ہے، جب وہ اپنی ٹانگ اس میں رکھتا ہے تو پانی زیادہ ہو جاتا ہے اور جب وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو پانی کم ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10228]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صبّاح مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23626»
وضاحت: فوائد: … مشاہدہ یہ ہے کہ چاند کی وجہ سے سمندر میں مدّ و جزر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10229
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ مِنْ لَيْلَةٍ إِلَّا وَالْبَحْرُ يُشْرِفُ فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى الْأَرْضِ يَسْتَأْذِنُ اللَّهَ فِي أَنْ يَنْفَضِحَ عَلَيْهِمْ فَيَكُفُّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات کو سمندر تین بار زمین پر جھانکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین والوں پر بہہ پڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو روک لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10229]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الشيخ الذي روي عنه العوام بن حوشب، وابو صالح مولي عمر مجھول ايضا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 303»
وضاحت: فوائد: … زمین پر (۸۰) فیصد پانی ہے اور (۲۰) فیصد خشکی، جب پانی بغاوت کر جائے تو انسان اس کے سامنے بالکل بے بس ہو جاتا ہے، سیلاب کے موقع پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، اب تو سونامی کا واقعہ بڑا مشہور ہو گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الشيخ الذي روي عنه العوام بن حوشب
حدیث نمبر: 10230
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ قَالُوا لِيَعْلَى فَقَالَ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [سورة الكهف: 29] قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر جہنم ہی ہے۔ لوگوں نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ (سورۂ کہف: ۲۹) انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںیعلی کی جان ہے! میں اس میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے اور اس کا ایک قطرہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10230]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن حيي مجھول، أخرجه الحاكم: 4/ 596، والبيھقي: 4/ 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18124»
وضاحت: فوائد: … سمندر کو جہنم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ سمندری سفر بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے، جب سمندر کے بیچ میں کوئی مسئلہ بن جائے تو آدمی اپنے آپ کو بالکل بے سہارا سمجھنے لگتا ہے، لہٰذا حج یا اس قسم کی اہم ضرورت کے لیے سمندری سفر کرنا چاہیے، وگرنہ نہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10231
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی اٹھاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10231]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 83، وابن ماجه: 386، والترمذي: 69، والنسائي: 1/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8720»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سمندر کا پانی پاک اور پاک کرنے والا ہے، اس کا ذائقہ جیسا بھی ہو، نیز سمندر کا مردار حلال ہے، اس سے مراد وہ جانور ہے، جو پانی کے علاوہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح