🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْجِنِّ وَأَمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10282
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان عورتوں کے پاس نہ جایا کرو، جن کے خاوند موجود نہ ہوں، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شیطان آپ میں بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ میں بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی ہے، پس وہ مطیع ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد جمع مجالد في ھذا المتن ثلاثة احاديث، وھي صحيحة بالشواھد، أخرجه الترمذي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14375»
وضاحت: فوائد: … شیطان کا خون کی طرح گردش کرنا، اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے بدن کے اندر اس طرح گردش کر سکتا ہے، یا ا س سے مراد یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ وسوسے ڈالتا ہے اور گمراہ کرنے کے لیے کئی اسباب اور طریقے استعمال کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى لَأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا دبایا،یہاں تک کہ مجھے اپنے ہاتھ پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس نے مجھے کہا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10283]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه، أخرجه البيھقي: 2/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3926»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس مضمون کی درج ذیل روایت پر غور کریں:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہُ، فَقَرَأ، فَالْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأیْتُمُوْنِیْ وَإبْلِیْسَ فَأھْوَیْتُ بِیَدِیْ، فَمَازِلْتُ أَخْنُقُہُ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إصْبَعَیَّ ھَاتَیْنِ: الإبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیْھَا، وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أخِی سُلَیْمَانَ، لأَصْبَحَ مَرْبُوْطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانُ الْمَدِیْنَۃِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أنْ لَایَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اوروہ (ابو سعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی توآپ پرقرأت خلط ملط ہونے لگی۔جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کاش کہ تم مجھے اورابلیس کودیکھتے، میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور اُس کا گلا گھونٹتا رہا، حتی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10284
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ تَحُومُ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، وجھالة ابي الصلت، أخرجه ابن ماجه: 2273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8625»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10285
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ قَالَ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ {رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: 35] قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک سرکش جن گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے اچانک میرے سامنے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت عطا کی اور میں نے اس کودھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ جب صبح ہو تو تم سارے افراد اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولوٹا دیا، اس حال میں کہ وہ ناکام تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10285]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 461، 3423، ومسلم: 541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7956»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۲۸۳)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 461
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں