الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ ذِكْرِ هَلَاكِ فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ وَدَسِ جِبْرِيلَ لا الطَّيِّنَ فِي فِيهِ
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
حدیث نمبر: 10377
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَسْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں نے سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کی رحمت اس کو پا لے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10377]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2820»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 10378
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10378]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3154»
وضاحت: فوائد: … برے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اصل قانون یہ ہے کہ جو آدمی جس انداز میں زندگی گزارتا ہے، اسی انداز میں اس کو موت آتی ہے۔ سجدوں میں ان لوگوں کی روحیں پرواز کر گئیں جو اپنے زندگی میں کثرت سے سجدے کرنے کے عادی تھے اور برائی کی حالت میں ان لوگوں کو موت کا پیغام قبول کرنا پڑا جو برائیوں کے دلدادہ تھے۔ فرعون کی زندگی بغاوت اور سرکشی کی سنگین مثالوں سے بھری ہوئی تھی،اس لیے اسی کے مطابق ہی اس کاخاتمہ ہونا تھا۔
حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3154