🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ قِصَّةِ عِبَادِتِهِمُ الْعِجْلَ فِي غَيْبَةِ كَلِيمِ اللَّهِ عَنْهُمْ وَالْقَانِهِ الْوَاحَ التَّوْرَاةِ عِنْدَ مَا عَابَنَ ذَلِكَ فَانْكَسَرَتْ
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدہ کرنے کی طرح نہیں ہے، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بتلایا کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں یہ رویہ اختیار کر لیا ہے، تو انھوں نے تختیاں نہیں پھینکی، لیکن جب انھوں نے خود مشاہدہ کیا تو ان کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10380]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 321، وابن حبان: 6213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2447»
وضاحت: فوائد: … جب موسی علیہ السلام چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے اور اللہ تعالیٰ سے تورات وصول کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں بتلا دیا تھا کہ ان کی قوم بچھڑے کو معبود بنا چکی ہے، آپ علیہ السلام نے یہ بات سن لی اور تورات کی تختیاں اٹھائے رکھیں، لیکن جب آ کر وہی منظر دیکھا تو کیفیت کچھ اور تھی۔
موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر جو کچھ ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس انداز میں بیان کیا: {وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہِ غَضْبَانَ اَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِیَجُرُّہٗ اِلَیْہِ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلاَ تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآئَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔} … اور جب موسی علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیااپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کر لی اور جلدی سے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے، ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے!
ان لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں، اب تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ظالموں کے ساتھ مت شمار کرو۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۰)
ہر انسان طبعی طور پر سننے اور دیکھنے میں فرق محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے مزید اطمینانِ قلب کے لیے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتاہے۔ جو تعجب اور حیرانی دیکھ کر ہوتی ہے، وہ سن کر نہیں ہو سکتی۔ اور جو یقین و ایقان دیکھ کر حاصل ہوتا ہے وہ صرف سن کا نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں