🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْءٍ مِنْ حِكْمَةٍ فِي الْقَضَايَا
فیصلوں میں سلیمان علیہ السلام کی حکمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10404
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتِ الصُّغْرَى يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقُّهُ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے ساتھ ایک ایک بیٹا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بیٹا لے گیا، پس دونوں فیصلہ کر لے داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انھوں نے بڑی کے حق میں اس بچے کا فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں چلی گئیں،سلیمان علیہ السلام نے ان کو بلایا اور کہا: چھری لے آؤ، تاکہ میں اس بچے کو اِن دونوں خواتین میں تقسیم کر دوں، یہ بات سن کر چھوٹی خاتون نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، یہ اسی بڑی کا بیٹا ہے، اس کو چیرا مت دو، اس خاتون کی یہ بات سن کر سلیمان علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن ہمیں پتہ چلا کہ چھری کو سِکِّیْن بھی کہتے ہیں، ہم تو اس کو مُدْیَۃ ہی کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10404]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3427، 6769، ومسلم: 1720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8263»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیا دانائی تھی سلیمان علیہ السلام کی۔ اس مقام پر یہ سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ داود علیہ السلام نے بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیوں کیا اور سلیمان علیہ السلام نے اس کو تبدیل کیوں کر دیا؟ کیونکہ داود علیہ السلام نے کچھ قرائن اور اسباب کی بنا پر بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیا ہو گا اور اسی کو ظن غالب کی روشنی میں حق سمجھا ہو گا، لیکن ان کی شریعت کی روشنی میں سلیمان علیہ السلام کے لیے از سرِ نو فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہو گی، اس لیے آپ علیہ السلام نے ایک عمدہ حیلہ استعمال کیا اور معاملے کی حقیقت واضح ہو گئی۔ درج ذیل حدیث پر غور کریں:
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّہُ یَأْتِینِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّہُ صَدَقَ فَأَقْضِیَ لَہُ بِذٰلِکَ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنْ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ فَلْیَتْرُکْہَا۔)) … میں تو محض ایک انسان ہوں اور میرے پاس مقدمہ آتا ہے، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ بلیغ ہو اور میں یہ گمان کر کے فیصلہ کر دوں کہ وہ سچا ہے، پس جس شخص کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہو گا، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس کو لے لے، یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۸، صحیح مسلم: ۳۲۳۱)
اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ اصل صورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہ جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری شواہد و قرائن کا اعتبار کرنا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3427
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں