صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. بَابُ مَنْ خَافَتَ الْقِرَاءَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:
باب: جس نے ظہر اور عصر میں آہستہ سے قرآت کی۔
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 777]
حضرت ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ہم نے دوبارہ عرض کیا کہ آپ کو کیسے پتا چلتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی جنبش کی وجہ سے ہمیں معلوم ہو جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة