الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرٍ آخِرٍ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي النَّاسِ
لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 10990
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَقَالَ ”إِنِّي السَّاعَةَ لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ فَلَمْ يَفْطَنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ“ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا قَالَ ثُمَّ هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کے دنوں میں ہمارے ہاں باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گویا) میں اس وقت حوض(کوثر) پر کھڑا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی ہے، لیکن اس نے آخرت کا انتخاب کر لیا ہے۔ لوگوں میں سے ابوبکر کے سوا کوئی بھی اس بات کو نہ سمجھ سکا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بلکہ ہم سب کے اموال، جانیں اور اولادیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نثار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے، اس کے بعد آخری دم تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومسجد میں نہیں دیکھا گیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کے ہیں، اگر میں نے اپنے رب کے سوا لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ سب کے ساتھ اسلامی اخوت اور مودت ضرور ہے، مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10990]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3654، ومسلم: 2382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11885»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سمجھ آ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بیماری میں وفات پانے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب وفات سے پانچ دن پہلے تھا، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3654
حدیث نمبر: 10991
عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ ”إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا يَأْكُلُ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ“ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا أَوْ بِآبَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ابن ابی المعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو جب تک دنیا میں چاہے رہے اور یہاں سے جو چاہے کھائے یا اپنے رب سے ملاقات کرے، اس نے اپنے رب کی ملاقات کو اختیار کیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، صحابۂ کرام نے کہا کہ اس بزرگ کو دیکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کسی نیک بندے کا ذکر کیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیایا رب کی ملاقات میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کا انتخاب کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو ابوبکر رضی اللہ عنہ اچھی طرح جان گئے تھے۔ انہوں نے کہا:ہم سب اپنے اموال، اور اولادوں یا (کہا، راوی کو شک ہے) باپوں سمیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نے اپنی صحبت اور اپنے مال کے ذریعے ابوبکر ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر مجھ پر احسان نہیں کیا، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابو قحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا، لیکن سب سے مودت، اخوت اور ایمان کا تعلق ہے اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا خلیل ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10991]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16018»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10992
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10992]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2074»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت اسی سند کے ساتھ طویل شکل میں بھی مروی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب مرض الموت کے دوران تھا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 927
حدیث نمبر: 10993
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَتَزْعُمُونَ أَنِّي آخِرُكُمْ وَفَاةً أَلَا إِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا“
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تم سب سے آخر میں فوت ہو ں گا؟ خبردار! میں تم میں پہلے وفات پانے والے لوگوں میں سے ہوں اور تم میرے بعد گروہ در گروہ فوت ہو کر آؤ گے اور تمہارا بعض بعض کو ہلاک بھی کرے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10993]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابويعلي: 7488، والطبراني في المعجم الكبير: 22/ 167، وابن حبان: 6646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17103»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابويعلي: 7488