🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11032
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَتْ فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ ”قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“ يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیاہ چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اسے اپنے چہرے پر ڈالتے اور کبھی ہٹا لیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اپنی امت کے لیے اس کام کو حرام قرار دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11032]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3453، 3454، ومسلم: 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26882»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3453
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11033
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11033]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5814، ومسلم: 942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25088»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11034
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي قَالَتْ فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ لَمْ أَجِدْ أَطْيَبَ مِنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پروراز کر گئی تو اس سے عمدہ کیفیت میں نے کسی کی نہیں دیکھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11034]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25417»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11035
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیں یمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11035]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5818، ومسلم: 2080 وابوداود!: 4036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25511»
وضاحت: فوائد: … مُلَبَّدَۃ سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کو پیوند لگا ہوا ہو۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5818
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11036
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّهُ لَيُهَوَّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیےیہ امر اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی جنت میں دیکھی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11036]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25590»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج روایت صحیح ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((اِنَّہٗلَیُھَوَّنُ عَلَيَّ الْمَوْتُ اَنْ اُرِیْتُکِ زَوْجَتِيْفِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … مجھ پر موت کی سختیاں اس بنا پر آسان ہو رہی ہیں کہ تم جنت میں مجھے اپنی بیوی دکھائی دے رہی ہو۔ (مسند احمد: ۶/ ۱۳۸)
اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہ عظیم منقبت بیان کی گئی ہے کہ وہ جنت میں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہوں گے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز پر اتنے خوش ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت کے سکرات اور سختیاں ہلکی محسوس ہو رہی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں