🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11045
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى وَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ نَائِمًا قَالَتْ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ فَقَالَ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَثَارُوا إِلَيْهِ فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قَمِيصِهِ يُفَاضُ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَالسِّدْرُ وَيُدَلِّكُهُ الرِّجَالُ بِالْقَمِيصِ وَكَانَتْ تَقُولُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اہل خانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں؟ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی طرح برہنہ کریں، جیسے ہم اپنے مردوں کو برہنہ کیا کرتے ہیں؟یا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت ہی غسل دے دیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب ان میں اس بات پر اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب پر اونگھ سی طاری کر دی،یہاں تک کہ نیند کی حالت میں سب لوگوں کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر جا لگیں، پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی، ان کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دو، وہ سب جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قمیص سمیت غسل دیا، اس کے اوپر سے ہی پانی اور بیری کے پتوں کو بہایا گیا، اور مرد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کو قمیص سمیت ملتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہو جاتی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ہی غسل دیتیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11045]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں کو سمجھانے کا کیسا معجزاتی انداز اختیار کیا، سبحان اللہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11046
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ الْمَاءُ مَاءُ غُسْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَسَّلُوهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ يَسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ
جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب غسل دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برتنوں میں جمع ہو گیا اور علی رضی اللہ عنہ اسے گھونٹ بھر بھر نوش کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11046]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، جعفر بن محمد الصادق لم يدرك ذالك ولم يسنده، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2403»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں