🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ خُطْبَةٍ فِي الْحَثٌ عَلَى الْعَمَلِ بِكِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ﷺ وَذِكْرِ السَّاعَةِ
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبۂ مبارکہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11082
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے افضل رہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے: تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گییا شام کو، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثائ) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے۔ ضَیَاع سے مراد مسکین اولاد ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14386»
وضاحت: فوائد: … بدعت: دین میں کوئی ایسا کام رائج کرنا، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔شروع شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقروض شخص کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھتے تھے، لیکن جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فوت ہونے والے لوگوں کا قرضہ بھی اتار دیتے تھے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 867
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں