🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ خُطْبَةٍ فِي ذِكْرِ السَّاعَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11089
أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا قَالَ أَنَسٌ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ أَنَسٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّارُ قَالَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن جب سورج ڈھل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، نماز سے سلام پھیرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کا اور قیامت تک رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی بھی چیز کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو وہ پوچھ لے، اللہ کی قسم! میں جب تک اس1 جگہ پر ہوں تم جو بھی پوچھو گے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ باتیں سنیں تو سب لوگ بہت زیادہ رو دئیے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بار بار کہتے جاتے کہ مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا:اللہ کے رسول! آخرت میں میرا انجام کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم۔ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!! یہ محدود انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات کی تھی کہ میں جب تک اس جگہ پر موجود ہوں آپ کے سوالوں کے جوابات دوں گا۔ ظاہر ہے کہ آپ کو ایک خاص حد تک لوگوں کو آگاہ کرنے کا بتایا گیا۔ اس سے آپ کا عالم الغیب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہیہ اللہ کی صفت ہے جس پر بہت سی قرآنی نصوص دلالت کرتی ہیں اور بہت سارے واقعات و احادیث سے آپ کے متعلق عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ (عبداللہ رفیق) میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذافہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بار بار فرمایا: پوچھو، اور پوچھو۔ یہ کیفیت دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے:ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی میں نماز پڑھا رہا تھا تو اس دیوار کی طرف میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، اچھا اور برا ہونے کے لحاظ سے میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7294، ومسلم: 2359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12688»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کا انجام جہنم بتایا، ممکن ہے کہ کوئی منافق ہو اور اس نے از راہِ تعنّت سوال کیا ہو۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں