🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَشْيهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11168
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چلتے تو چستی سے چلتے، اس میں سستی کا مظاہرہ نہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11168]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه البزار: 2391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3033»
وضاحت: فوائد: … چستی سے چلنے سے مراد یہ ہے کہ حرکت میں شدت اور قوی اعضاء کے ساتھ چلتے، چلنے میں کوئی ڈھیلا پن نہیں ہوتا تھا۔

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11169
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَكُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي فَأُهَرْوِلُ فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ فَالْتَفَتُّ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک جنازے میں تھا، جب میں عام رفتار سے چلتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے آگے نکل جاتے، جب میں ہلکا ہلکا دوڑنے کے انداز سے چلتا، تب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل جاتا، ایک آدمی میرے ساتھ ساتھ چلا جار ہا تھا، میں نے اس سے کہا: ابراہیم کے خلیل (یعنی اللہ) کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے توزمین لپیٹ دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11169]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7497»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ کی پیشانی میں سورج چلتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زمین لپیٹ دی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تیز نہیں چلتے تھے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے ہمیں خوب تیز چلنا پڑتا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11170]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8588»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں