الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ وَتَوَكَّلِهِ ﷺ وَطَهَارَةِ قَلْبِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
حدیث نمبر: 11208
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَائِضِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بعض کام ایسے ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر دائمی عمل کرنا چاہتے تو تھے، لیکن محض اس لیے اسے ترک کر دیتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور اللہ کی طرف سے اسے ان پر فرض ہی کر دیا جائے، اللہ کے فرائض میں سے لوگوں پر جو تخفیف کر دی جاتی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11208]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1128، ومسلم: 718، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24557»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ لوگ کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن ان کو مشقت بھی نہ کرنا پڑے، حقیقت ِ حال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری کی ساری شریعت آسانی پر مشتمل ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1128
حدیث نمبر: 11209
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ فَانْتَقَمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ بِأَيْسَرِهِمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَأْثَمًا فَإِنْ كَانَ مَأْثَمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا اہلیہ کو کبھی نہیں مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد کے علاوہ کبھی بھی کسی کو اپنے ہاتھ سے ضرب نہیں لگائی اور اگر کسی نے کبھی آپ سے کوئی بد سلوکی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اس کا بدلہ نہیں لیا، الایہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پامالی ہوتی ہو اور جب بھی آپ کو دو سے کسی ایک بات کو منتخب کرنے کی پیش کش کی جاتی اور ان میں سے ایک صورت دوسری کی نسبت آسان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں میں سے اس کا انتخاب کرتے جو زیادہ آسان ہوتی، الایہ کہ کوئی گناہ کی بات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا انتخاب نہ فرماتے، اگر وہ بات گناہ والی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11209]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24535»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2327
حدیث نمبر: 11210
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دور رضاعی مائیں ہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11210]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12126»
وضاحت: فوائد: … سید الاوّلین والآخرین نے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے لوہار کے گھر بھیج دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوہار کے گھر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہی بندگی ہے، یہی بندگی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2316
حدیث نمبر: 11211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَقَالَ لَهُ لَا تُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عینیہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے، جب انھوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے، تو کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بچے کو بوسہ نہ دیں، میرے تو دس بچے پیدا ہوئے ہیں، میں نے ان میں سے ایک کو بھیبوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11211]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5997،ومسلم: 2318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7121»
وضاحت: فوائد: … بندے کو نرم دل اور شفقت کرنے والا ہونا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفقت و رافت سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5997
حدیث نمبر: 11212
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ ”إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی طور پر نہیں، بلکہ برسر عام فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک ابی فلاں کی آل میرے اولیاء نہیںہیں،میرے اولیاء تو اللہ تعالیٰ اور نیک مومن ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11212]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5990، ومسلم: 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17957»
وضاحت: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی طور پر نہیں، بلکہ برسر عام فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک ابی فلاں کی آل میرے اولیاء نہیںہیں،میرے اولیاء تو اللہ تعالیٰ اور نیک مومن ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5990
حدیث نمبر: 11213
عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالُوا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمْتُ فَقُلْتُ أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ ”أَحْسَنْتِ“
یحییٰ بن جزار کہتے ہیں: کہ کچھ صحابہ کرام نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دارانہ امور کے بارے ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے، پھر انہیں اپنی اس بات پر ندامت ہوئی اور انھوں نے کہا: میں نے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رازفاش کر دیا ہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11213]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد ان صح سماع يحيي بن الجزار من الصحابة الذي ابھمھم، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27172»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے اندر راز دارانہ اور مخفی امور اور گھر سے باہر لوگوں کے سامنے انجام دیئے گئے اعلانیہ امور، دونوں ہی امت ِ مسلمہ کے لیے حجت ہیں، امہات المؤمنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان امور کا علم ہو گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے اندر سرانجام دیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد ان صح سماع يحيي بن الجزار من الصحابة الذي ابھمھم
حدیث نمبر: 11214
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَنَادَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَدْرُونَ مَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ قَوْمٍ خَافُوا عَدُوًّا يَأْتِيهِمْ فَبَعَثُوا رَجُلًا يَتَرَاءَى لَهُمْ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ أَبْصَرَ الْعَدُوَّ فَأَقْبَلَ لِيُنْذِرَهُمْ وَخَشِيَ أَنْ يُدْرِكَهُ الْعَدُوُّ قَبْلَ أَنْ يُنْذِرَ قَوْمَهُ فَأَهْوَى بِثَوْبِهِ أَيُّهَا النَّاسُ أُوتِيتُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أُوتِيتُمْ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار پکار کر فرمایا: لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور تمہاری مثال ان لوگوں کی سی ہے جو اپنے اوپر حملہ آور دشمن سے خائف ہوںتو وہ کسی کو صورت احوال معلوم کرنے کے لیے بھیجیں، ابھی وہ ادھر جاہی رہا ہو کہ دشمن کو دیکھ لے، وہ قوم کو متنبہ کرنے کے لیے واپس لوٹے اور اسے ڈر ہو کہ اس کے قوم کے پاس پہنچنے سے اور خبر دار کرنے سے پہلے ہی دشمن اس کی قوم تک نہ پہنچ جائے، پس وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر کہے: لوگو! دشمن آگیا، دشمن تمہارے سرپر چڑھ آیا، (سنبھل جاؤ)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11214]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23336»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب اور بندے کو اس کی ناکامی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره