🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11256
قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرْضٌ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ الْوِتْرُ وَالنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین کام مجھ پر فرض اور تمہارے لیے نفل ہیں، وتر، قربانی اور چاشت کی نماز۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11256]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جناب الكلبي ضعّفه ابن سعد ويحيي بن سعيد القطان، وابن معين وابوحاتم وغيرھم اخرجه البزار: 2433، والدارقطني: 2/ 21، والحاكم: 1/ 300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2050»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11257
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، صفوں کے آخر میں ایک آدمی نے نماز اچھی طرح ادا نہیں کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیراتو اس سے فرمایا: ارے فلاں! کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے، تم نماز کس طرح ادا کرتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ مجھ سے پوشیدہ ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے دیکھتا ہوں، اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11257]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9795»
وضاحت: فوائد: … نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خصوصیت اور معجزہ حاصل تھا، جس کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں سے تھا، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک اپنے جوتے سے لگی ہوئی نجاست کا علم نہیں ہوا تھا، جب تک جبریل علیہ السلام نے تشریف لا کر بتایا نہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 423
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11258
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمِئِينَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ“
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تورات کے عوض سبع طوال (سات مفصل سورتیں)،زبور کے عوض مئیں،انجیل کے عوض مثانی دی گئی ہیں اور مفصل سورتوں کے ذریعے باقی انبیاء پر مجھے فضیلت دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11258]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 475، والطيالسي: 1012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17107»
وضاحت: فوائد: … قرآن کریم کی سورتیں چار قسم کی ہیں:
(۱) طِوَال: سات ہیں، بقرہ، آل عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف اور انفال اور براء ت(سورۂ انفال اور سورۂ براء ت) کو ایک شمار کیا گیا ہے۔
(۲) المِئِیْنَ: جن سورتوں کی آیات (۱۰۰) سے زائد یا اس کے قریب ہیں۔
(۳) الْمَثَانِی: وہ سورتیں جو تعداد میں مئین کے بعد آتی ہیں، ان کو مثانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کو طوال اور مئین کی بہ نسبت بار بار پڑھا جاتا ہے۔
(۴) المُفصَّل: ان کی ابتداء سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے ہوتی ہے، یہ مزید تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں:
طِوال مُفصَّل: سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ نباء یا سورۂ بروج تک۔
اَوْسَاط مُفصَّل: سورہ نباء یا سورۂ بروج سے لے کر سورۂ ضحییا سورۂ بینہ تک۔
قِصَار مُفصَّل: سورۂ ضحییا سورۂ بینہ سے آخرِ قرآن تک۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11259
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11259]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3216، والنسائي: 6/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24638»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۴) اور اس کے فوائد۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11260
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ مَا شَاءَ قُلْتُ عَمَّنْ تُؤْثِرُ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ آپ جس قدر چاہیں، مزید عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیایہ آپ کس سے روایت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں۔ میرا خیال ہے کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11260]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26171»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26171
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11261
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11261]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
وضاحت: فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہما۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں