🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ إِنْشِقَاقُ الْقَمَرِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ چاند کا پھٹنا، کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11264
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اشْهَدُوا“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چانددو ٹکڑے ہوا، یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گواہ ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11264]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3636، 4865،ومسلم: 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3583»
وضاحت: فوائد: … یہ ایسا عالمی اور کائناتی معجزہ ہے کہ جو ہمارے نبی کے ساتھ خاص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو ایسا معجزہ عطا نہیں کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3636
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11265
عَنْ أَنَسٍ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [القمر: 1-2]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں دو بار چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیںیہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری نے ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی (ج۴، ص۱۹۱) میں اور حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری (ج۷، ص۱۸۳) میں دیگر روایات کو سامنے رکھ کر اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ مرتین کا معنی فِلْقَتَیْنِ ہے یعنی چاند دو ٹکڑے ہوا نہ کہ دو مرتبہ پھٹا۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/حدیث: 11265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
وضاحت: فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علماء کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند ثابت شدہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2802
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11266
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
قتادۃ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11266]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14003»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2802
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11267
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ فَقَالُوا سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ فَقَالُوا إِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11267]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حصين بن عبد الرحمن لم يسمع ھذا الحديث من محمد بن جبير بن مطعم، بينھما جبير بن محمد بن جبير وھو مجھول، أخرجه الترمذي: 3289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16871»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں