الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ أَنَّهُ مَجَ فِي بِشْرٍ فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رَائِحَةِ الْمِسْكِ
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کنویں میں کلی کی اور اس سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھوٹنے لگ گئی
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَهْلِي عَنْ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّ فِي الدَّلْوِ ثُمَّ صَبَّ فِي الْبِئْرِ أَوْ شَرِبَ مِنَ الدَّلْوِ ثُمَّ مَجَّ فِي الْبِئْرِ فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ
عبد الجبار بن وائل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اہل نے مجھے بیان، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ پانی کا ایک ڈول نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پیا اور پھر ڈول میں کلی کی اور وہ پانی کنویں میں پھینک دیا،یا اس طرح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈول سے پانی پیا اور کنویں میں کلی کی، پس اس کنویں سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھیلنے لگی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19044»
الحكم على الحديث:
حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 119
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَتَمَضْمَضَ فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ
۔(دوسری سند) نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ڈول میں زمزم کا پانی لایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کلی کی اور وہ پانی اسی ڈول میں پھینکا، پس وہ تو کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ڈول سے باہر ناک جھاڑا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19080»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ وجود کی برکت اور اثر تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 119