🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَعِيشَيْهِﷺ وَأَهْلِ بَيْتِهِ¤فَمِنْ ذَالِكَ مَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ“ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن جو کی روٹی اور ایسے سالن کے لیے دعوت دی گئی، جس سے زیادہ دیر تک پڑا رہنے کی وجہ سے بد بو آ رہی تھی اور میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن میں کئی بار فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، آل محمد کے پاس اناج اور کھجور کا ایک صاع بھی نہیں ہے۔ جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایکیہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اناج ادھار لیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (قرض واپس کرنے کے لیے) اتنا مال نہیں تھا کہ وہ زرہ چھڑا سکیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2069، 2508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13531»
وضاحت: فوائد: … بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پاکیزہ آل کو اس دور کا بہت اچھا کھانا بھی مل جاتا تھا، لیکن زندگی کی زیادہ حصہ فقر و فاقہ کی نظر ہی رہتا تھا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2069
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ
جناب ِ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے، جبکہ ان کا روٹی بنانے والا باورچی ان کے پاس کھڑا ہوتا، ایک دن انھوں نے کہا: کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتلی بڑی چپاتی اور بال اتار کر بھونی ہوئی بکری دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پروردگار سے جا ملے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5385، 5421، 6457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12321»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5385
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگی اور قلت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس روٹی اور گوشت والا دوپہر کا کھانا اور شام کا کھانا جمع نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13895»
وضاحت: فوائد: … ضَفَف کے مزید دو معانی بھی کیے گئے ہیں: ایک لوگوں کا اجتماع اور اکٹھ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ کھانا نہیں کھاتے تھے، بلکہ لوگوں کے ساتھ تناول فرماتے تھے اور دوسرا معنییہ ہے کہ کھانے والوں کے تعداد کھانے کی مقدار سے زیادہ ہوتی تھی۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13895
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں