🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. فَالأَوْلَى مِنْهُنَّ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ الثَّانِيَةُ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَوْدَةُ بِنْتُ زَمَعَةً رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11404
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جَسِيمَةً فَوَافَقَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَبْصَرَهَا فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ فَانْكَفَأَتْ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ فَقَالَ ”لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا، اس کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئیں۔ وہ کافی جسیم تھیں اور ان کا قد کافی طویل تھا، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے ان کو دیکھا تو زور سے کہا: سودہ! اللہ کی قسم! تم جب باہر آتی ہو تو ہم سے مخفی نہیں رہ سکتیں، اب دیکھ لو کہ تم کو کیسے نکلنا چاہیےیا کیا کرنا چاہیے؟وہ وہیں سے لوٹ آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی اور شکایت کی۔ گوشت والی ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میںہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کانزول شروع ہوگیا، اس کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوا تو ابھی تک وہ ہڈی آپ کے ہاتھ ہی میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہیں اپنی ضرورت کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11404]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 147، 4795، 5237، ومسلم: 2170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24794»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11405
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے حق میں قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، ما سوائے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2593، 2688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25371»
وضاحت: فوائد: … جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2593
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11406
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِي فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِي بِيَوْمِهَا مَعَ نِسَائِهِ قَالَتْ وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدَهَا
ہشام اپنے والد (عروہ) سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جب عمر رسیدہ ہوگئیں تو انہوں نے اپنی باری مجھے ہبہ کر دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی باری والا دن بھی مجھے دیا کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد یہ پہلی بیوی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں آئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11406]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: وكانت اول امرأة تزوجھا بعدي فقد تفرد به شريك النخعي وھو سييء الحفظ، اخرجه البخاري: 5212 دون الجملة المنكرة، وأخرجه مسلم: 1463ولم يسق لفظه، انما احال علي حديث جرير وقال: وزاد في حديث شريك: قالت: وكانت اول امرأة تزوجھا بعدي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24899»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ وہ پہلی خاتون تھیں، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد شادی کی، ا س سے مراد نکاح ہے، یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے پہلے ہوا تھا، لیکن بالاتفاق ان کی رخصتی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بعد ہوئی تھی۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قولھا: وكانت اول امرأة تزوجھا بعدي فقد تفرد به شريك النخعي وھو سييء الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں