🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي كُتبه إلى مُلوكِ الْكُفَّارِ وَغَيْرِهِمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11508
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَفَاةُ قَالَ ”هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ“ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ يَكْتُبُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ وَغُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”قُومُوا عَنِّي“ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں، اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے۔ اس وقت گھر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگ موجود تھے، آپ کی بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے، تمہارے پاس قرآن ہے، ہمیں اللہ کی کتاب ہی کافی ہے، گھر میں موجود افراد کا اس بارے میں اختلاف ہو گیا اور وہ جھگڑنے لگے۔ بعض کہنے لگے کہ اللہ کے رسول تمہارے لیے جو لکھنا چاہتے ہیں،وہ لکھ دیں اور بعض نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی بات کی، جب ان کا اختلاف اور شور بہت زیادہ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سب میرے ہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ سب سے بڑی مصیبت وہ اختلاف اور شور تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہوا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11508]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4432، 5669، ومسلم: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3111»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11509
عَنِ ابْنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ
ابن علاء حضرمی سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک تحریر بھیجی، اس کی ابتدا اپنے آپ سے کی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11509]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن العلائ، اخرجه ابوداود: 5134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19195»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ بادشاہوں کو خطوط لکھنے، معاہدے لکھنے، بعض احادیث لکھنے اور بعض احکام لکھنے کی صورت میں جب کبھی تحریر کی ضرورت پڑتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذریعہ کو بھی استعمال کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن العلائ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں