🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ حَارِثَةَ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَمَّةِ اَنَسِ بْنِ مالك رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11667
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ قَالَ ”يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا“ أَوْ قَالَ ”فِي أَعْلَى الْفِرْدَوْسِ“ شَكَّ يَزِيدُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ جاسوسی کے لیے گئے،اچانک انہیں ایک تیر آلگا اور وہ شہید ہوگئے،ان کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا حارثہ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے، اب اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں، وگر نہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت ایک تو نہیں ہے، کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو افضل جنت میں ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں بہت سی ہیں اور حارثہ اعلیٰ جنت الفردوس میں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11667]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12277»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ کم سن تھے، یہ غزوۂ بدر میں شریک تو ہوئے تھے، لیکن ان کی شرکت ایک مقاتل اور جنگجو کی حیثیت سے نہ تھی اور نہ ہییہ دشمن سے لڑنے کے لیے گئے تھے، یہ دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے نکلے تھے کہ دشمن کا ایک تیر ان کو آلگا اور یہ شہید ہوگئے۔ ان کی والدہ کو خیال گزرا کہ مقام شہادت اور جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوں، ان کا بیٹا نہ تو قتال کے لیے نکلے تھا اور نہ لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، نیز ان کی والدہ کو تردّد اس لیے بھی ہوا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اطلاع نہ ملے اس کے جنتی ہونے یا نہ ہونے کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے اس نے دریافت کیا کہ اگر وہ جنتی ہو تو صبر کروں اور اگر وہ جنت میں نہیں تو رو رو کر اس کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کااظہار کروں۔ اس سے ان کی مراد نوحہ کرنا نہیں کیونکہ نوحہ تو حرام ہے۔ اور اگر بالفرض ان کی مراد نوحہ کرنا ہی ہو تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کا ہے جبکہ نوحہ کی تحریم غزوۂ احد کے بعد ہوئی تھی۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں