🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. مَا جَاءَ فِي زَاهِرِ بن حَرَامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زاہر بن حرام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11698
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا كَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ“ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرْسِلْنِي مَنْ هَذَا فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ“ أَوْ قَالَ ”لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی، جس کا نام زاہرتھا، وہ دیہات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تحائف لایا کرتا تھا، اس کی واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسے بدلے میں کوئی چیز عطا فرمایا کرتے تھے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے بہت محبت تھی، وہ حسین نہیں تھے، وہ ایک دن اپنا سامان بیچ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچ گئے، وہ نہ دیکھ سکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیچھے سے اسے پکڑ کر اپنے بازووں کے حصار میں لے لیا، وہ کہنے لگا: مجھے چھوڑ، کون ہے؟ اس نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان لیا، اب وہ کوشش کرکے اپنی پشت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ اچھی طرح لگانے لگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بہت زیادہ قیمت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11698]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه الترمذي في الشمائل: 239، وابن حبان: 5790، وابويعلي: 3456، والبيھقي: 6/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12676»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مزاحیہ انداز تھا، لیکن دراصل اس انداز میں اس صحابی کی دلجوئی تھی۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه الترمذي في الشمائل : 239
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں