🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11763
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ“ سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
ام بکر بنت مسور سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی۔اور انہوں نے یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین صحابہ اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حصہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ میں نے عرض کیا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں کے حق میں فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد صبر کی صفت سے متصف لوگ ہی تم پر شفقت و مہربانی کریں۔ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11763]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه الطبراني في الاوسط: 9111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25231»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11764
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ ”إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ“ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمہارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11764]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، اخرجه الحاكم: 3/ 311، والحاكم: 3/ 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27094»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
یہ حدیث سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔

الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11765
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ مَا هَذَا قَالُوا عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ قَالَ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنَ الصَّوْتِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا“ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف فرما تھیں کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں زور زور کی آوازیں سنیں،انھوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ بتانے والوں نے بتلایا کہ شام سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک تجارتی قافلہ آیا ہے، جو ہر قسم کا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ و ہ سات سو اونٹ تھے، قافلے کی آوازوں سے مدینہ گونج اٹھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں گئے۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: اگر کوشش کروں تو سیدھا کھڑا ہو کر بھی جنت میں جا سکتا ہوں، چنانچہ انہوں نے وہ سارا قافلہ اس کے پالانوں اور اٹھائے ہوئے سامان سمیت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11765]
تخریج الحدیث: «حديث منكر باطل، تفرد بھا عمارة، وھوممن لا يحتمل تفرده، اخرجه البزار: 2586، والطبراني في الكبير: 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25353»

الحكم على الحديث: حديث منكر باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11766
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ فَقَالَ عُثْمَانُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کر دیں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے آل عمرکے ہاں جا کر ان سے ان کا حصہ خرید لیا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کی تھیں، اب میں نے آل عمر رضی اللہ عنہ کا حصہ تو خرید لیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: عبدالرحمن بن عوف کی گواہی ہر حال میں مقبول ہے،وہ ان کے حق میں ہو یا ان کی مخالفت میں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11766]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم، الا ان في سماع عروة من عبد الرحمن بن عوف وقفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1670»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۵۹۱)میں گزرا ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک مخیر صحابی تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں مال و دولت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق سے بھی نوازا تھا۔

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں