الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11799
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں محکم سورتیں یاد کر لی تھیں، جبکہ میری عمر دس برس تھی۔ میں (سعید بن جبیر) نے ان سے کہا: محکم سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: مفصل سورتیں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3125»
وضاحت: فوائد: … سورۂ حجرات سے قرآن کریم کے آخر تک کے حصے کو مفصل کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5036
حدیث نمبر: 11800
قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشَرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم جن سورتوں کو مفصل کہتے ہو، ان کو محکم بھی کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت میری عمر دس سال تھی، لیکن میں یہ محکم سورتیں یاد کر چکا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2283»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5035
حدیث نمبر: 11801
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رِبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت میرا ختنہ ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11801]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2379»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں چار اقوال ملتے ہیں۔ دس برس، تیرہ برس، چودہ برس، پندرہ برس، حافظ ابن حجر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اقوال کو اور ان کے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر تیرہ سال پوری ہو چکی تھی اور وہ چودھویں سال میں جا رہے تھے۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6299
حدیث نمبر: 11802
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنِ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يُخْرَجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنِ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ حروری نے ان کے نام ایک خط لکھ کر ان سے یہ مسائل دریافت کئے: بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ خمس کے اہل کون لوگ ہیں؟بچے پر سے یتیمی کا اطلاق کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں یا نہیں؟ کیا مال غنیمت میں غلام کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواباً تحریر کیا: اگر تم خضر ہو اور جانتے ہو کہ بچہ بڑا ہو کر کافر بنے گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو، رہا مسئلہ خمس کا تو ہم تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے، اب ہم میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتیں، مریضوںکی تیمارداری کرتیں، البتہ جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔بچہ جب بالغ ہو جائے تو اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔غلام کا مال غنیمت میں کچھ حصہ نہیں، البتہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ بطور عطیہ دیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11802]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه بنحوه مسلم: 2471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1967»
وضاحت: فوائد: … اگر تم خضر ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم وہ خضر ہو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس بچے کے انجام سے مطلع کر دیا تھاتو تم ان بچوں کو قتل کر دو۔ یعنی تم ان کو قتل نہیں کر سکتے، کیونکہ تم کو ان کے انجام کا علم نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح