الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمُّ الْفَضْلِ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الهلالية رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11998
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي مَنَامِي فِي بَيْتِي أَوْ حُجْرَتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ زِيَادَةُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ) قَالَ: ”تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا فَتَكْفُلِينَهُ.“ فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَزُورُهُ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ إِزَارَهُ، فَزَخَخْتُ بِيَدِي عَلَى كَتِفَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَضَرَبْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ) فَقَالَ: ”أَوْجَعْتِ ابْنِي أَصْلَحَكِ اللَّهُ.“ أَوْ قَالَ: ”رَحِمَكِ اللَّهُ.“ فَقُلْتُ: أَعْطِنِي إِزَارَكَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ: ”إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ.“
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے واقعی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11998]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 375، وابن ماجه: 522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27416»
وضاحت: فوائد: … قثم: یہ امر الفضل کا بیٹا ہے اس کے دودھ سے دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حسن (ایک روایت کے مطابق حسین) کو دودھ پلا رہی تھیں تو اس وقت قثم چھوٹے بچے تھے اور اپنی ماں کا دودھ پیتے تھے گویا قثم کے حصہ کا دودھ حسن نے پیا تھا۔
طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔
ان کے نام درج ذیل ہیں:
فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔
ان کے نام درج ذیل ہیں:
فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11999
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أُعْلِمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ.
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن یہ شک ہونے لگا کہ آیا آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے سے ہیں یا نہیں، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں اس کا پتہ کرا کے دیتی ہوں،پھر انہوں نے دودھ کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پی لیا (اور اس طرح پتہ چل گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ نہیں ہے)۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11999]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1658، 1988، ومسلم: 1123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27409»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1658
حدیث نمبر: 12000
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ.
۔ (دوسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہونے لگا، تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا اورآپ نے وہ نوش فرما لیا، اس وقت آپ عرفہ میں اونٹ پر سوار ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12000]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہ انتہائی زیرک خاتون تھیں اور انھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں صحابۂ کرام کے اس شک کو دور کیا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419