الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
حدیث نمبر: 12040
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12040]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه الترمذي: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11545»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 12041
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيْسَ مِنْ وَالِي أُمَّةٍ قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ“
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12041]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه بنحوه البخاري: 7150، 7151، ومسلم: 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20556»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 12042
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12042]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابويعلي: 6570،و ابن ابي شيبة: 12/ 219، والبيھقي: 3/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9570»
وضاحت: فوائد: … جن حکمرانوں نے پوری مملکت اور اس کے کروڑوں باشندوں کو داؤ پر لگا رکھا ہے، ان کا کیا حشر ہو گا۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي
حدیث نمبر: 12043
عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ
ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12043]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لايثبت، وليس ھو بحديث، ابو قحذم، قال ابن معين: لا ادري ما اسمه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7936»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لايثبت
حدیث نمبر: 12044
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 7720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22656»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے، جب ایک حکمران امارت سنبھالتا ہے تو سارے کے سارے مخالفین اور موافقین میں سے بعض افراد اس پر سب و شتم کرتے ہیں۔
جب وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے، یا وہ الیکشن میں ہار جاتا ہے تو اسے جس حسرت و ندامت اور شرمندگی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی زبان اس کو تعبیر نہیں کر سکتی اور امارت کے مکمل تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے آخرت میں بھی رسوائی و ناکامی کا سامنا پڑے ہے۔ لیکن جو حاکم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کے حقوق ادا کرے گا، وہ عظیم اور خوش بخت انسان ہو گا۔
جب وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے، یا وہ الیکشن میں ہار جاتا ہے تو اسے جس حسرت و ندامت اور شرمندگی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی زبان اس کو تعبیر نہیں کر سکتی اور امارت کے مکمل تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے آخرت میں بھی رسوائی و ناکامی کا سامنا پڑے ہے۔ لیکن جو حاکم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کے حقوق ادا کرے گا، وہ عظیم اور خوش بخت انسان ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12045
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا“ وَفِي رِوَايَةٍ ”يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میں اموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12045]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11025»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلِیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا مَھْدِیْ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِی لَہٌ فِیَ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطاعَ اَنْ یَحْمِلَہٗ۔)) … ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جتنا وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر) مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلِیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا مَھْدِیْ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِی لَہٌ فِیَ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطاعَ اَنْ یَحْمِلَہٗ۔)) … ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جتنا وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر) مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2914
حدیث نمبر: 12046
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَإِنَّ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12046]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2957، ومسلم: 1841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10787»
وضاحت: فوائد: … تمام اجتماعی معاملات کا دار ومدار امام اور حکمران پر ہے،ا گر حکمران صالح ہو تو شرپسند عناصر بھی دب جاتے ہیں، لیکن اگر حکمران برا ہو تو خیر والے لوگ پس پردہ چلے جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 2957
حدیث نمبر: 12047
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي عَلَيْنَا أَمِيرٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي وَلَا عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي قَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أُمَرَائِكُمْ أَمِيرًا يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا يَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُولُ خُذْ فَيَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ فَيَحْثِي فِيهِ“ وَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَةً غَلِيظَةً كَانَتْ عَلَيْهِ يَحْكِي صَنِيعَ الرَّجُلِ ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ أَكْنَافَهَا قَالَ ”فَيَأْخُذُهُ ثُمَّ يَنْطَلِقُ“
ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12047]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11962»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۰۴۵)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا تعلق خاص دور سے ہے، ویسے عام تاریخی قانون یہی ہے کہ ہر آنے والے حکمران اور زمانے میں خیر کم ہو تی گئی۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد