🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. الْبَابُ الرَّابِعُ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ وَفِيهِ فُصُولٌ
باب چہارم: مناقب صحابہ رضی اللہ عنہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12171
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوِ اتَّخَذْتُ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں اپنے ہر خلیل کی خلت اور گہری دوستی سے اظہار براء ت کرتا ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہو تا تو ابو بکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12171]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3580»

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2383
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ“ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا فائدہ مجھے ابو بکر کے مال سے پہنچاہے، اتنا کسی دوسرے کے مال سے نہیں پہنچا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خوشی سے رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال، سب کچھ آپ کا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3661، وابن ماجه: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7439»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12173
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ وَقَالَ مَرَّةً وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ قَالَ فَقَالَ ”يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تھے اور دشمن غار کے منہ پر کھڑے تھے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف جھانکا تو اپنے قدموں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12173]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3653، 3922، 4663، ومسلم: 2381، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11»
وضاحت: فوائد: … ہجرت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غارِ ثور میںپناہ لی تھی، یہ اس موقع سے متعلقہ حدیث ہے کہ ان کا تیسرا اللہ تعالیٰ تھا۔

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 3653
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12174
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ”عَائِشَةُ“ قَالَ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَ ”أَبُوهَا“ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ”عُمَرُ“ قَالَ فَعَدَّ رِجَالًا
سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوۂ ذات ِسلاسل کے لیے روانہ کیا، میں اس سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ میں نے کہا: اور مردو ں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے والد سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید چند آدمیوں کے نام لیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12174]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4358، 3662، ومسلم: 2384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17964»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 4358
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں