🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. الْبَابُ السَّادِسُ فِي وَفَاتِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَثَنَاءِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
باب ششم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12232
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو ان کو اٹھائے جانے سے قبل لوگوں نے ان کی چارپائی کو گھیر لیا اور ان کے حق میں دعائیں اور رحمت کی التجائیں کرنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے میرے کندھوں کو پکڑا، جب میں اُدھر متوجہ ہوا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے رحمت کی اور کہا: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا کہ جس کے بارے میں میں یہ تمنا کرسکوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میرے اعمال اس کے اعمال جیسے ہوں، اللہ کی قسم!مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ضرور ملائے گا، اس لیے کہ میں کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ ’‘میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابو بکر اور عمر باہر گئے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ آپ کو ان کے ساتھ ضرور ملائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12232]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3685، ومسلم: 2389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 898»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 3685
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12233
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ هُوَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبراور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے درمیان لا کر رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آکر صفوں کے آگے کھڑ ے ہوگئے اور انہوں نے تین بار کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس ڈھانپے ہوئے آدمی کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے کہ میں اس جیسے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کروں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12233]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 866»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12234
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا حَفْصٍ فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ
ابو حجیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان پر ایک کپڑا ڈال کر انہیں ڈھانپا گیا، وہ وفات پا چکے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اے ابو حفص! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی مجھے اتنا محبوب نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جا کر ملوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12234]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 867»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12235
وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے روز قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک ماہِ ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12235]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه ابن حبان: 2091، وابويعلي: 256، والبزار: 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 341»
وضاحت: فوائد: … ابو لولو نے یہ حملہ کیا تھا، پچھلے ابواب میں وضاحت ہو چکی ہے، بدھ کے روز یہ حملہ ہوا تھا، یہ ایسا زخم کاری تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور تین دن بیمار رہنے کے بعد یکم محرم بروز ہفتہ سنہ ۲۴ ہجری کو خالق حقیقی کی طرف روانہ ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلومیں ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سو گئے۔

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں