الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. الْفَضْلُ السَّادِسُ فِي اخْتِيَارِهِ قَاضِيَا لِلْيَمَنِ وَإِنَّهُ أكْثَرُ الأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ عِلْمًا وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا وَأَقْدَمُهُمْ سَلَمًا
فصل ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
حدیث نمبر: 12322
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ قَالَ قُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ“ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ابھی تک نو عمر ہی تھاکہ رسول اللہ نے مجھے یمن کی طرف بھیج دیا، میں نے کہا: آپ مجھے ایسے لوگوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں، جن کے مابین جھگڑے ہوں گے اور میں تو فیصلے کرنے کا علم نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو درست اور دل کو مضبوط رکھے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی تردد نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12322]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه ابن ماجه: 2310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 636»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12323
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا بَعَثْتَنِي أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ قَالَ ”الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ“
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب آپ مجھے بھیج ہی رہے ہیں تو اب میں (آپ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے) گرم سکّہ کی طرح بن جاؤں یا ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12323]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 628»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک فرد کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، آپ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ وہ بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی فوراً تعمیل کریں یا حالات و واقعات اور قرائن و شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً دوسری چیز کو مناسب قرار دیا۔
جو اہل علم اس حدیث کی شرح پڑھنا چاہتے ہیں وہ سلسلہ صحیحہ: ۴/ ۵۲۷ حدیث نمبر ۱۹۰۴ میں مذکورہ طرق اور ان سے شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کے کیے ہوئے استنباط کا مطالعہ کریں۔
جو اہل علم اس حدیث کی شرح پڑھنا چاہتے ہیں وہ سلسلہ صحیحہ: ۴/ ۵۲۷ حدیث نمبر ۱۹۰۴ میں مذکورہ طرق اور ان سے شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کے کیے ہوئے استنباط کا مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12324
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ”هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَعُودُهَا“ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ ”أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ ثِقَلَهَا غَيْرُكَ وَيَكُونُ أَجْرُهَا لَكَ“ قَالَ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَقَالَ لَهَا كَيْفَ تَجِدِينَكِ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ اشْتَدَّ حُزْنِي وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي وَطَالَ سَقَمِي قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ”أَوَمَا تَرْضَيْنَ أَنِّي زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا“
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فاطمہ کے ہاں جا کر ان کی عیادت کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا سہارا لے کر اٹھے اور فرمایا: اس کے بوجھ کو تیرے سوا کوئی دوسرا اٹھالے گا اور تجھے اس کا اجر ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد گویا اب مجھ پر کوئی بوجھ نہ رہا، یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسی پاتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میر ا غم زیادہ ہو چکا ہے اور شدید فاقوں سے دوچار ہوں اور میری بیماری بھی طویل ہو چکی ہے۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھوں سے اس حدیث میں یہ بھی لکھاپایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح ایسے آدمی سے کردوں، جو میرے امت میں سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والا اور سب سے زیادہ صاحب علم اور حوصلہ مند ہے؟ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12324]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن طھمان ضعّفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وكان قبل ذلك ثقة، اخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20573»
الحكم على الحديث: ضعیف