🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12370
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ“
عثمان شحام سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انھوں نے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب میری امت سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی امور میں سختی کرنے والے اور تیز ہوں گے، ان کی زبانیں قرآن کے ساتھ بڑی ماہر ہوں گی، مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب تم انہیں دیکھو تو قتل کر ڈالنا، پھر کہتاہوں کہ تم جب انہیں دیکھو تو ان کو قتل کر دینا، ان کو قتل کرنے والا اجر کا مستحق ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12370]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، اخرجه البيقھي: 18/187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20719»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12371
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ فَسَقَطَتِ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے کا چمڑہ پکڑ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی، پس اس بچے کی پیشانی پر کمان کی مانند بال اگ آیا اور وہ بچہ جوان ہوگیا، جب خوارج کادور آیا تو وہ بچہ ان کی طرف مائل ہوا اور ان سے محبت کرنے لگا، تو اس کے چہرے کا وہ بال جھڑ گیا، یہ دیکھ کر اس کے والد نے اسے پکڑ کر قید کر کے محبو س کر دیا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان کے ساتھ مکمل طور پر نہ مل جائے، سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم اس کے پاس گئے اور جا کر وعظ نصیحت کی اور اپنی باتوں میں ہم نے اس سے یہ بھی کہاکہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاکی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑ گئی ہے، ہم اسے مسلسل وعظ کرتے رہے تاآنکہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور اس کے بعد اس کی پیشانی پر بال دوبارہ اگ آیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12371]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24215»
وضاحت: فوائد: … محدثین نے خوارج کو ان احادیث کا مصداق قرار دیا ہے، پچھلے دو ابواب کے آخر میں محولہ مقامات کا مطالعہ کریں

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں