الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. البَابُ الْأَوَّلُ فِيْمَا جَاءَ فِي مَنَاقِبِهِ
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
حدیث نمبر: 12460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ يَقُولُ النَّاسُ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ زَاهِدٌ إِنَّمَا الزَّاهِدُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الَّذِي أَتَتْهُ الدُّنْيَا فَتَرَكَهَا
مالک بن دینار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار زاہد اور نیک ہیں، جبکہ زاہد تو عمر بن عبد العزیز ہیں، جن کے پاس دنیا تو آئی مگر انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12460]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه حماد بن واقد العيشي متفق علي ضعفه، وأما ابنه فطر بن حماد، فمختلف فيه، اخرجه البيھقي في الزھد: 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22495»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12461
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْدَوَيْهِ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ قَالَ فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا فَقَالَ أَنَسٌ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ
عثمان بن یزدویہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں عمر بن یزید کی معیت میں مدنیہ منورہ گیا، ان دنوں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے سے قبل وہاں کے عامل اور گورنر تھے،، اس وقت میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جن کے جسم پر پھلبہری کے کافی سفید نشانات تھے، کو یہ کہتے ہوئے سنا،انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہ پوری نماز پڑھنے کے باوجود مختصر پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12461]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 888، والنسائي: 2/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13707»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12462
عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، عمر بن عبدالعزیز نماز میں طویل قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12462]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12492»
وضاحت: فوائد: … عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ بنو امیہ کے نیک سیرت انسان تھے، ان کی نیکی، تقوی اور حسنِ سیرت کی بنا پر علمائے کرام نے ان کو خلیفۂ راشد کے پر فخار لقب سے یاد کیا ہے۔
ان کی مدت ِ خلافت دو برس، پانچ مہینے اور چار دن تھی، ان کی وفات ۲۵ رجب سنہ ۱۰۱ہجری کو ہوئی۔
ان کی مدت ِ خلافت دو برس، پانچ مہینے اور چار دن تھی، ان کی وفات ۲۵ رجب سنہ ۱۰۱ہجری کو ہوئی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12492