الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. الْبَابُ الأَوَّلُ فِي إِكْرَامِ قُرَيْشٍ وَعَدْمِ إِهَانَتِهِمْ أَوْ سَبُّھِمْ
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
حدیث نمبر: 12537
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ يُرِدْ هَوْنَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قریش کی اہانت کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12537]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي:3905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1473»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے بعض قبائل کو دوسروں سے افضل قرار دیا ہے، ان کی اس فضیلت کا خیال رکھنا چاہیے
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12538
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا بُنَيَّ إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ“
عمرو بن عثمان بن عفان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: پیارے بیٹے! اگر تمہیں لوگوں پر حکمرانی کا موقع ملے تو قریش کا اکرام کرنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے قریش کی توہین کی، اللہ اسے ذلیل و رسواکرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12538]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه البزار: 373، وابن حبان: 6269، والحاكم: 4/ 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 460»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12539
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا قَتَادَةُ لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ يَزِيدُ سَمِعَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں ناقدانہ باتیں کیں اور ان کو برا بھلا بھی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہو، ہوسکتا ہے تم ان میں ایسے افرادبھی دیکھوکہ ان کے اعمال کے بالمقابل تمہیں اپنے اعمال معمولی نظر آئیں اور تم اپنے افعال کو ان کے افعال کے بالمقابل کم تر خیال کرو اور تم انہیں دیکھو تو تم ان پر رشک کرو، اگر قریش کے اترانے اور مغرور ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بتلا دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کاکیا مرتبہ ہے؟ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12539]
تخریج الحدیث: «اسناداه ضعيفان، الاول لانقطاعه، فان محمد بن ابراهيم التيمي لم يسمع من قتادة بن النعمان الظفري، والسند الثاني: فيه عمر بن قتادة مجھول، اخرجه البزار: 2787، والطبراني في الكبير: 19/10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27699»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12540
عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَقَالَ ”هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ“ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا وَحَلِيفَنَا وَمَوْلَانَا فَقَالَ ”ابْنُ أُخْتِكُمْ مِنْكُمْ وَحَلِيفُكُمْ مِنْكُمْ وَمَوْلَاكُمْ مِنْكُمْ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَةٍ فَمَنْ بَغَى لَهَا الْعَوَائِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ“
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تمہارے درمیان اس وقت کوئی غیر قریشی تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا، ایک حلیف اور ایک غلام ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھانجا، تمہارا حلیف اور تمہارا غلام تم میں سے ہیں، بے شک قریش صدق و امانت کے حامل ہیں، جو آدمی ان کی کوتاہیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا، اللہ اسے اس کے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12540]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف دون قوله: ابن اختكم منكم ومولاكم منكم فصحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19202»
الحكم على الحديث: ضعیف