الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِيمَا وَرَدَ فِي بَنِي نَاجِيَةَ وَالنَّخَعِ وَغَزَّةَ
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12560
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ ”أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنی ناجیہ کے بارے میں فرمایا: میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں، (یعنی وہ میرے اور میں ان کا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12560]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي سعد ولاضطراب سنده، اخرجه الطيالسي: 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1447»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي سعد ولاضطراب سنده
حدیث نمبر: 12561
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ أَخِي سَعْدٍ قَالَ ذَكَرُوا بَنِي نَاجِيَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُمْ حَيٌّ مِنِّي“ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ سَعْدٌ
ایک دوسری روایت جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سے مروی ہے، اس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں بنو ناجیہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قبیلہ مجھ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12561]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1448»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1448
حدیث نمبر: 12562
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ أَوْ قَالَ يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نخع کے اس قبیلہ کے حق میں اس قدر دعا کی یا یوں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس قدر مدح کی کہ میں نے تمنا کی کہ میں بھی ان میں سے ایک فرد ہوتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12562]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 2830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3826»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 12563
وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ مِنْ عَنَزَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ“
حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12563]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الغضبان بن حنظلة وابيه، اخرجه البزار: 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 141»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة الغضبان بن حنظلة وابيه