🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. باب فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا:
باب: جانوروں کو پلانے اور کھلانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2244 ترقیم شاملہ: -- 5859
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا، فَقَالَ: " فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ".
ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا، اس کو شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا، وہ اس کنویں میں اترا اور پانی پیا، پھر وہ کنویں سے نکلا، تو اس کے سامنے ایک کتا زور زور سے ہانپ رہا تھا، پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا، اس شخص نے (دل میں) کہا: یہ کتا بھی پیاس سے اسی حالت کو پہنچا ہے جو میری ہوئی تھی۔ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ سے پکڑا، یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا، پھر اس نے کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس نیکی کا بدلہ دیا، اس کو بخش دیا۔“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان جانوروں میں اجر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نمی رکھنے والے ہر جگر میں (کسی بھی جاندار کا ہو) اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5859]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا، اس دوران اسے شدید پیاس لگی، اس نے ایک کنواں پایا تو اس میں اتر کر پانی پی لیا، پھر نکلا تو ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے نم دار زمین چاٹ رہا ہے، اس آدمی نے دل میں کہا: اس کتے کو بھی پیاس کی وجہ سے وہی کوفت پہنچی ہے جو مجھے لاحق ہوئی تھی، سو وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اسے اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پلایا، (اللہ نے اس کے عمل کی قدردانی کی اور اسے بخش دیا۔)“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہمیں ان چوپایوں کے سبب اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تر جگر والے یعنی زندہ میں اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2245 ترقیم شاملہ: -- 5860
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا ".
ہشام نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکالی ہوئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارا (اور اس کے ذریعے پانی نکال کر اس کتے کو پلایا) تو اس کو بخش دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5860]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”ایک زانیہ عورت نے ایک گرم دن ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگاتے دیکھا، پیاس کے سبب اس نے اپنی زبان نکالی ہوئی تھی، تو اس نے اس کے لیے اپنے موزے سے پانی نکالا، سو اسے بخش دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2245
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2245 ترقیم شاملہ: -- 5861
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ".
ایوب سختیانی نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک کتا ایک (گہرے، کچے) کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی شدت سے مرنے کے قریب تھا کہ بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک فاحشہ نے اس کو دیکھا تو اس نے اپنا موٹا موزہ اتارا اور اس کے ذریعے سے اس (کتے) کے لیے پانی نکالا اور وہ پانی اسے پلایا تو اس بنا پر اس کو بخش دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5861]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک کتا ایک کچے کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا، قریب تھا پیاس اسے مار ڈالے کہ اچانک اسے بنو اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے دیکھ لیا تو اس نے اپنا موزہ اتارا، اس کے ذریعے اس کے لیے پانی نکالا اور اسے پلا دیا، اس نیکی کے سبب اسے معاف کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5861]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2245
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں