🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلٍ عَسْقَلَانَ
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12735
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ، رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ تَثِجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا، يَقُولُونَ: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، فَيَقُولُ: صَدَقَ عَبِيدِي، اغْسِلُوهُمْ بِنَهْرِ الْبَيْضَةِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا نِقَاءً بِيضًا، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عسقلان، دو دلہنوں میں سے ایک دلہن ہے، یہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگ اٹھائے جائیں گے، جن کا حساب نہیں لیا جائے گا اور یہاں سے پچاس ہزار شہدا اٹھائے جائیں گے، جو اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، یہاں ایسے شہداء کی صفیں ہوں گی، جن کے کٹے ہوئے سر ان کے ہاتھوں میں ہوں گے اور ان کی رگوں سے خون پھوٹ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰی رُسُلِکَ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ (اے ہمارے رب!تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے فرما، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔) اللہ فرمائے گا: میرے بندے سچ کہہ رہے ہیں، فرشتو! تم انہیں چمک والی نہر میں غسل دوـ، چنانچہ وہ وہاں سے ہر قسم کی میل کچیل سے پاک ہو کر صاف ستھرے ہو کر نکلیں گے اور جنت میں جہاں چاہیں گے گھومیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12735]
تخریج الحدیث: «موضوع، ابو عقال ھلال بن زيد مجمع علي طرح حديثه، وقال ابن حبان: روي عن انس اشياء موضوعة ما حدث بھا انس قط، لايجوز الاحتجاج به بحال، اخرجه ابن الجوزي في الموضوعات: 2/ 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13389»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں