🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. فَصْلٌ فِي فَضْلِ التَّمْرِ وَالْعَجْوَةِ
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12770
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَا عَائِشَةُ! بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ“، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ عَنْهُ (مسند أحمد:25972)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، اس گھر والے لوگ بھوکے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12770]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25458 ترقیم بيت الأفكار الدولية:25972»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2046
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12771
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ كَأَنْ لَيْسَ فِيهِ طَعَامٌ“
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، وہاں گویا کھانا ہی نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12771]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25247»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں اس حدیث کے مطابق گندم یا چاول کی مثال دی جا سکتی ہے، کیونکہ عرب جس طرح کھجور کو بطورِ غذا استعمال کرتے تھے، اس طرح ہم گندم یا چاول کو استعمال کرتے ہیں، یعنی ہمارے ہاں جس گھر میں گندم یا چاول موجود ہوں تو اس گھر والوں کا گزارہ ہو سکے گا، لیکن اگر یہ چیزیں بھی نہ ہوں تو وہ بیچارے کیا کریں گے، جیسا کہ بعض غریب لوگوں کا حال ہے۔
حدیث کا مفہوم اگر عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہے جس آدمی یا گھر والوں کی غذا میں کھجور شامل نہ ہو وہ غذائی کمی کا شکار رہیں گے۔ کھجور کے کثیر الفوائد ہونے پر اگر نظر ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی سمجھ میں آنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12772
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَصِيفٌ يَقُولُ ”الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ“
سیدنا رافع بن عمرو مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں بلوغت کے قریب تھا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: عجوہ اور کھجور کا درخت جنت میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12772]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15593»
وضاحت: فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبین اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاص کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔
کئی احادیث میں عجوہ کھجور کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12773
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ يَجْتَنُونَ أَرَاكًا فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ جَنْيَ أَرَاكٍ فَقَالَ ”لَوْ كُنْتُ مُتَوَضِّئًا أَكَلْتُهُ“
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ لوگ پیلو کا پھل چن رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا توایک آدمی نے چنے ہوئے پیلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں باوضو ہوتا تو کھالیتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12773]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة، ولجھالة مولي جابر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15214»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12774
عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ“
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زیتون کھاؤ اور جسم پر بھی لگایا کرو، بے شک یہ ایک بابرکت شجر کا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12774]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16151»
وضاحت: فوائد: … زیتون کے تیل کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی ہے: {یُوقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنِۃٍ لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ } (سورۂ نور: ۳۵) … (وہ چراغ) ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی، خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے۔
روغن زیتون کے کئی فوائد ہیں، علامہ ابن قیم نے (زاد المعاد) میں ان فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں