الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12814
وَعَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ، مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ هَا بُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ“
ربعی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12814]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 21، والطيالسي: 417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23696»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 12815
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12815]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فضيل بن سليمان كثير الخطأ، واياس بن عمرو لم يرو عنه غير محمد بن ابي يحيي ولم يوثقه غير ابن حبان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 695»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12816
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12816]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة الراوي المبھم، أخرجه الحاكم: 4/ 438، واسحاق بن راهويه: 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7730»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12817
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَاكْسِرُوا قِسِيَّكُمْ، وَاقْطَعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ بَيْتَهُ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12817]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4259، وابن ماجه: 3961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19968»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12818
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا يُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍ أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا“، قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ، فِرَاشَ نَارٍ، وَذَبَّانَ طَمَعٍ، يَغْدُونَ بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُونَ بِدِرْهَمَيْنِ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12818]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 2460، والحاكم: 3/ 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18594»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت میں ان فتنوں سے پہلے پہلے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بوقت ِ صبح مومن اور شام کو کافر … اس کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کو ایمان سے متصف ہو گا اور اعمال صالحہ سے مزین گا، لیکن شام کو کفر کی دلدل میںپھنسا ہوااور کفریہ اعمال کرتا ہوا نظر آئے گا اور یہ معنی بھی کیا گیا ہے صبح کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھے گا، لیکن شام کو ان کو حلال تصور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حالات ایسا رخ اختیار کرلیں گے کہ انسان کو اپنے بدل جانے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی، اس معاملے میں وہ لا شعوری کا اظہار کرے گا۔ اب ایسے ہو رہا ہے کہ ایک انسان اچھا بھلا نیک پرہیزگار نظر آتا ہے، لیکن کچھ دنوں کے بعد جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کی روحانی کیفیت بگڑ چکی ہوتی ہے اور نماز جیسے فریضے کو ترک کر چکا ہوتا ہے، کوئی سود کھانے کی وجہ سے گر چکا ہو تا ہے تو کسی سے اچانک قتل ہو جاتا ہے، کوئی دوسرے خاندان کی بچی کی حرمتوں کو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی دوسرے کے مال کو ہڑپ کر جانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔ تاجروں کو کوئی شعور نہیں کہ ان کی تجارت شرعی اصولوں پر مبنی ہے یا نہیں، اپریل ۲۰۰۹ ء کی بات ہے کہ ایک تاجر نے ایک شرعی قاعدے کو نظر انداز کر کے سودا کیا، اسے اس وجہ سے دو دنوں کے اندر اڑتالیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی لینے والے اور اس کے حریص ہوں گے اور ان کے دینی معاملات بگڑ جائیں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12819
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ، الْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ“، أَوْ قَالَ: ”عَلَى الشَّوْكِ“، قَالَ حَسَنٌ: فِي حَدِيثِهِ: خَبَطِ الشَّوْكَةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12819]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: اَلْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِيْنِهٖ كَالْقَابِضِ فحسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9061»
وضاحت: فوائد: … سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَأتِيْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔)) … لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بند کرنے والے کے مترادف ہو گا۔ (ترمذی: ۲/ ۴۲، صحیحہ:۹۵۷)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: اَلْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِيْنِهٖ كَالْقَابِضِ فحسن لغيره
حدیث نمبر: 12820
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ أَفْضَلَ النَّاسِ فِيهِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12820]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9721»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1889
حدیث نمبر: 12821
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12821]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3600، 6495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11046»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث کو سمجھنے اور اپنے آپ کو ان کا مصداق بنانے یا نہ بنانے کے لیے بہت زیادہ فہم و فراست اور حکمت و دانائی کی ضرورت ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3600