🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. امْتِحَانُ الْمُؤْمِنِينَ وَفِدْيَتُهُمْ مِنَ النَّارِ بِالْكَافِرِينَ
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13176
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتَّبِعُونَهُمْ حَتَّى يُقَحِّمُونَهُمُ النَّارَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتُمْ فَنَقُولُ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَقُولُ وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا فَيَقُولُ أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام امتوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلے کرے توہر قوم جس جس کی پوجا کیا کرتی تھی، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس کی صورت پیش کرے گا، وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں چلے جائیں گے، جبکہ ہم ایک بلند جگہ پر ہوں گے، ہمارا ربّ ہمارے پاس آکر کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ ہم عرض کریں گے: ہم مسلمان ہیں، وہ پوچھے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ہم کہیں گے: ہم اپنے ربّ کا انتظار کر رہے ہیں، وہ پوچھے گا: کیا تم اسے دیکھ کر پہنچان جاؤ گے؟ ہم کہیں گے: جی ہاں، وہ پوچھے گا: تم نے تو اسے دیکھا ہی نہیں، پس تم اسے کیسے پہچانو گے؟ ہم کہیں گے: بس ہم اسے پہچان لیں گے، کیونکہ وہ بے مثل ہیں، اس جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے ظہور فرمائے گا اور کہے گا: مسلمانو! مبارک ہو، میں نے تمہارے ہر ہر فرد کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم میں پہنچادیا ہے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13176]
تخریج الحدیث: «قوله: لَيْسَ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهٗ فِيْ النَّارِ يَهُوْدِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة عمارة القرشي، أخرجه ابن خزيمة في التوحيد: ص 236، والدارقطني في الصفات: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19888»

الحكم على الحديث:
قوله: لَيْسَ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهٗ فِيْ النَّارِ يَهُوْدِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13177
وَعَنْ عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذَكَرَ الشَّيْخُ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَا أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عمارۃ قرشی کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں عمربن عبدالعزیز کی خدمت میں گئے، وفد میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عمربن عبدالعزیز نے ہمارا کام کر دیا، جب سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان کو دیکھ کر کہا: بزرگ کو کیا یاد آگیا؟ کیا میں نے آپ لوگوں کا کام نہیں کر دیا؟ سیدناابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کام تو ہو گیا ہے، ایک حدیث رہ گئی ہے، جو میرے والد (سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ) نے مجھے بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن امتوں کو جمع کرے گا، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔ عمربن عبدالعزیز نے سیدنا ابوبردہ سے پوچھا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم نے سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں میں نے اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13177]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19889»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13178
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَا أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا“ قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَفَ لَهُ قَالَ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ
عون اور سعید بن ابی بردہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ وہ دونوں موجود تھے اور سیدنا ابوبردہ عمربن عبدالعزیز کے سامنے اپنے والد کے حوالہ سے یہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم رسید کرے گا۔ عمربن عبدالعزیز نے ان سے تین بار اس اللہ کی قسم لی کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ واقعی اس کے باپ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ انھوں نے جواباً قسم اٹھائی۔ سعید راوی نے قسم اٹھوانے والی بات بیان نہیں کی تھی، لیکن انھوں نے عون کی اس بات کا انکار بھی نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13178]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19789»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2767
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13179
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ يُقَالُ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ“ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَعَمْ فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کابیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مومن کو ایک یہودی یا ایک عیسائی دے کر یہ کہا جائے گا کہ جہنم سے تمہاری نجات کے لیے یہ آدمی تمہارا فدیہ ہے۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمربن عبدالعزیز نے مجھ سے اللہ کے نام کا حلف اٹھوایا کہ کیا واقعی میں نے سیدنا ابو موسیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حدیث روایت کرتے سنا ہے، میں نے کہا جی ہاں، یہ سن کر عمربن عبدالعزیز خوش ہو گئے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13179]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوعوانة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19829»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں