الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَولادُ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْكَافِرِينَ
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
حدیث نمبر: 13243
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا فِي النَّارِ“ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ ”لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ ”فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ“ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} [الطور: 21]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱) [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13243]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن عثمان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1131»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة محمد بن عثمان
حدیث نمبر: 13244
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُسْلِمِينَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهُمْ فَقَالَ ”اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“ قَالَ فَلَقِيتُ الرَّجُلَ فَأَخْبَرَنِي فَأَمْسَكْتُ عَنْ قَوْلِي
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا دور بھی رہا کہ جس میں میں یہ فتوی دیا کرتا تھا کہ آخرت میں مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ اورمشرکوں کی اولادمشرکوں کے ساتھ ہوں گی، یہاں تک کہ فلاں آدمی نے فلاں آدمی کے حوالے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب ان کی اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے؟ پھر میں یہ حدیث بیان کرنے والے اُس آدمی کو جا کر ملا، اس نے مجھے اس حدیث کی خبردی، پھر میں نے اپنی پہلی بات کہنا چھوڑ دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13244]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرج المرفوع منه البخاري: 6597، ومسلم: 2660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20973»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 13245
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
۔(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوں نے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13245]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23880»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23880
حدیث نمبر: 13246
وَعَنْ حَسْنَاءَ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ مِنْ بَنِي صَرِيمٍ قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ”النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَلِيدَةُ“
بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کون کون لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور (بلوغت سے پہلے فوت ہوجانے والا)بچہ اور بچی بھی جنت میں ہو ں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13246]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 339، وابن سعد: 7/ 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23872»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 13247
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْءُودَةُ فِي الْجَنَّةِ“
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20861»
وضاحت: فوائد: … امت مسلمہ اس حقیقت پر متفق و متحد ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20861