الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. أولاد المُسْلِمِينَ
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
حدیث نمبر: 13256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ذِرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل ِ اسلام کی اولاد جنت میں ہے، ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13256]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 7446، والحاكم: 2/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8307»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۳۲۵۰)کے فوائد میں یہ حدیث تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 13257
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكِ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ ”أَوَغَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ“
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26261»
وضاحت: فوائد: … یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے، لیکن تعیین کے ساتھ کسی بچے کو جنتی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلے یہ بات ثابت کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے والدین کا اسلام کیسا ہے، وہ قبول بھی ہے یا نہیں، یا ان کا انجام کیا ہو گا؟ اور اس چیز کا علم آخرت میں ہو گا۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ہو گی، لیکن شرعی قوانین کی بات اور ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ہو گی، لیکن شرعی قوانین کی بات اور ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2662
حدیث نمبر: 13258
وَعَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ شُفْعَةَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُقَالُ لِلْوِلْدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَأْتُونَ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِينَ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا قَالَ فَيَقُولُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ“
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جب تک ہمارے باپ اور مائیں جنت میں داخل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک ہم نہیں جائیں گے، پھر وہ آگے چلیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا وجہ ہے کہ تم غصے میں اور آہستہ آہستہ چلے رہے ہو؟ چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور اور تمہارے ماں باپ بھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13258]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17096»
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد