🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر وصف الفرقة الناجية من بين الفرق التي تفترق عليها أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر جس میں امت مصطفیٰ ﷺ کے فرقوں میں سے نجات پانے والے گروہ کی صفت بیان کی گئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلاعِيُّ ، قَالا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ: وَلا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرَيْنَ وَمُقْتَبِسَيْنِ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقَبْلُ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي" عِنْدَ ذِكْرِهِ الاخْتِلافَ الَّذِي يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ مَنْ وَاظَبَ عَلَى السُّنَنِ، قَالَ بِهَا، وَلَمْ يُعَرِّجْ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الآرَاءِ مِنَ الْفِرَقِ النَّاجِيَةِ فِي الْقِيَامَةِ، جَعَلَنَا الِلَّهِ مِنْهُمْ بِمَنِّهِ.
عبدالرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ وہ صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ﴾ [سورة التوبة: 92] اور نہ ہی ان لوگوں پر کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری کے لیے جانور دو، تو تم نے کہا: مجھے وہ چیز نہیں ملتی جو میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم نے یہ کہا: ہم آپ کی زیارت کرنے کے لیے اور آپ سے فیض یاب ہونے کے لیے آئے ہیں، تو سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلیغ وعظ کیا جس کے نتیجے میں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور دل لرز گئے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ الوداعی وعظ محسوس ہوتا ہے، تو آپ ہمیں کسی چیز کی تلقین کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، (حاکمِ وقت کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی تلقین کرتا ہوں، اگرچہ وہ (حاکم) کوئی ایسا حبشی غلام ہو، جس کے اطراف (یعنی کان یا ناک) کٹے ہوئے ہوں۔ تم میں سے جو شخص (زیادہ عرصے تک) زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھ لے گا۔ (تو ایسی صورتحال میں) تم لوگوں پر میری سنت اور ہدایت یافتہ اور ہدایت کا مرکز خلفاء کی سنت کی پیروی کرنا لازم ہے، تم لوگ اسے مضبوطی سے تھام لینا اور اچھی طرح پکڑ لینا اور تم نئے پیدا ہونے والے امور سے بچنا، کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ تو تم پر میری سنت کو اختیار کرنا لازم ہے یہ اس صورتحال کے بارے میں ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختلاف کا ذکر کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا ہو گا، تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے، جو شخص سنت پر مواظبت (یعنی باقاعدگی سے اس پر عمل) اختیار کرے گا، اس (سنت) کے مطابق رائے دے گا، اس (سنت) کی بجائے دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا، تو ایسا شخص قیامت کے دن نجات پانے والے گروہ میں سے ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت ہمیں بھی ان میں شامل رکھے۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 328، 329، 330، 331، 332، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4607، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2676، 2676 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 96، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 42، 43، 44، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20397، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17416، 17418، 17419، 17420، 17421، والبزار فى (مسنده) برقم: 4201، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 500، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1185، 1186، والطبراني فى(الكبير) برقم: 617، 618، 619، 620، 621، 622، 623، 624، 642، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 66»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 582)»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (937 و3007)، «ظلال الجنة» (26 - 34).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. عبد الرحمن بن عمرو السلمي، روى عن جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحح حديثه هذا: الترمذي، والحاكم، والذهبي، وقد تابعه حُجر بن حجر، وهو في "ثقات ابن حبان"، وباقي رجاله رجال الصحيح، وقد صرح الوليد بن مسلم بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں