🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. ذكر ما كان يتخوف صلى الله عليه وسلم على أمته جدال المنافق-
- اس خوف کا ذکر جو نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں تھا کہ کہیں وہ منافقین کے ساتھ جھگڑوں میں نہ پڑ جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ، وَكَانَ رِدْئًا لِلإِسْلامِ، غَيَّرَهُ إِلَى مَا شَاءَ الِلَّهِ، فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ، الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي؟ قَالَ:" بَلِ الرَّامِي" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
مجھے تم لوگوں کے بارے میں یہ اندیشہ ہے، ایک شخص قرآن کا علم حاصل کرے گا۔ یہاں تک کہ جب اس کا قرآن کا عالم ہونا معروف ہو جائے گا اور وہ شخص اسلام (کی تعلیمات) کا محافظ ہو گا، تو وہ جو اللہ کو منظور ہو گا، تو وہ اس میں کوئی تبدیلی کرے گا، وہ اس سے کھسک جائے گا اور اسے اپنی پشت کے پیچھے رکھ دے گا۔ وہ اپنے پڑوسی کے پیچھے تلوار لے کر دوڑے گا اور اس پر شرک کا الزام عائد کر دے گا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ان میں سے کون مشرک ہونے کے زیادہ قریب ہو گا، جس پر الزام
عائد کیا گیا ہے؟ یا وہ شخص جو الزام عائد کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو الزام عائد کر رہا ہے۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 81، والبزار فى (مسنده) برقم: 2793، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4356، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (3201).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
أخرجه البزار برقم "175" عن محمد بن مرزوق، والحسن بن أبي كبشة كلاهما عن محمد بن بكر البُرساني، بهذا الإسناد، وقال: لا نعلمه يروى إلا عن حذيفة، وإسناده حسن، والصلت مشهور، ومن بعده لا يسأل عن أمثالهم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں