🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2478 ترقیم شاملہ: -- 6369
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ، وَلَيْسَ مَكَانٌ أُرِيدُ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَقَصَصْتُهُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَى عَبْدَ اللَّهِ رَجُلًا صَالِحًا ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں باریک ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت میں کوئی بھی جگہ جہاں میں جانا چاہ رہا ہوں، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے۔ کہا: میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتایا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عبداللہ (ابن عمر) کو ایک نیک آدمی دیکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6369]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں باریک ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت میں کوئی بھی جگہ جہاں میں جانا چاہ رہا ہوں، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے۔ کہا: میں نے یہ خواب سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتایا، سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عبداللہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو ایک نیک آدمی دیکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2478
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2479 ترقیم شاملہ: -- 6370
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لعبد، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ، فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا ".
زہری نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو شخص کوئی خواب دیکھتا تو وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کروں۔ میں ایک غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ کے کنارے پر کنویں کی منڈیر کی طرح تہ در تہ منڈیر بنی ہوئی ہے اور اس کے دو ستون ہیں جس طرح کنویں کے ستون ہوتے ہیں اور اس کے اندر لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں تو میں نے کہنا شروع کر دیا: میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کہا: تو ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ آ کر ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت ڈرو۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، حضرت حفصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ خوب آدمی ہے! اگر یہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھا کرے۔ سالم نے کہا: اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سوتے تھے (زیادہ وقت نماز پڑھتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6370]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو شخص کوئی خواب دیکھتا تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کروں۔ میں ایک غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ کے کنارے پر کنویں کی منڈیر کی طرح تہ در تہ منڈیر بنی ہوئی ہے اور اس کے دو ستون ہیں جس طرح کنویں کے ستون ہوتے ہیں اور اس کے اندر لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں تو میں نے کہنا شروع کر دیا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ آ کر ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت ڈرو۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے! اگر یہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھا کرے۔ سالم نے کہا: اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت کم سوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2479
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2479 ترقیم شاملہ: -- 6371
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رات کو مسجد میں سوتا تھا (اس وقت) میرے اہل و عیال نہ تھے میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا گیا ہے پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی بیان کیا جو زہری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6371]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رات کو مسجد میں سوتا تھا کیونکہ میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں نے خواب میں دیکھا، گویا کہ مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا گیا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6371]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2479
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں