🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. باب فرض الإيمان - ذكر تحريم الله جل وعلا على النار من وحده مخلصا في بعض الأحوال دون البعض-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا بعض حالتوں میں مخلص ہو کر وحدانیت کا اقرار کرنے والے پر جہنم کو حرام فرما دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، وَكَانَ الأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ"، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟" قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، وَقُمْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ، قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَاكَ مُنَافِقٌ، وَلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ؟" قَالُوا: الِلَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ، وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق انصار سے ہے اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، وہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے، میں اپنے محلے کے لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں، جب بارش ہوتی ہے تو نشیبی حصے میں میرے اور ان لوگوں کے درمیان پانی بہنے لگتا ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا کہ انہیں جا کر نماز پڑھاؤں، اس لیے یا رسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ (میرے ہاں) تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ آپ نماز ادا کریں، تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عنقریب ایسا کروں گا۔ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھنے کے بعد تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اجازت پیش کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد پہلے تشریف فرما نہیں ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں؟ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ (مخصوص قسم کا کھانا) کھانے کے لیے روک لیا، جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، محلے کے کچھ لوگ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے، یہاں تک کہ گھر میں متعدد افراد اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ تو کسی دوسرے نے کہا: وہ منافق ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو، کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے کہ اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہا ہے؟ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے یہ کلمہ پڑھا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، ہم نے تو یہ بات نوٹ کی ہے کہ اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لیے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پڑھتا ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے سوال کیا، یہ بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں اور ان کے اکابرین میں سے ہیں، ان سے میں نے سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس روایت کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، 667، 686، 838، 839، 1185، 5401، 6354، 6422، 6938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، ومالك فى (الموطأ) برقم: 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، 1292، 1612، 2075، 4534، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على ابن خزيمة» (1653 و 1654): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں