🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

208. باب الأذكار - ذكر البيان بأن المرء كلما كثر تبريه من الحول والقوة إلا ببارئه كثر غراسه في الجنان
اذکار کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جتنا آدمی اپنے خالق کے علاوہ حول و قوة سے براءت کرتا ہے، اس کے جنت میں درخت زیادہ ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، لِجِبْرِيلَ: مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا غِرَاسَ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ، وَأَرْضُهَا وَاسِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لإِبْرَاهِيمَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ" .
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، آپ کا گزر سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: اے جبرائیل! آپ کے ساتھ کون ہے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنی امت کو یہ ہدایت کریں کہ وہ جنت میں زیادہ درخت لگائے، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین کشادہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا: ”جنت میں درخت لگانے سے مراد کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”پڑھنا“۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 821، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24035، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 231، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 36410» «رقم طبعة با وزير 818»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» -أيضا-، «الصحيحة» (105). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الله بن عبد الرحمن لم يوثقه غير المؤلف، وباقي رجاله ثقات، والمقرىء: هو عبد الله بن يزيد العدوي أبو عبد الرحمن، وأبو صخر: هو حميد بن زياد المدني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں