صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
240. باب الأذكار - ذكر استحباب الذكر لله جل وعلا في الأحوال حذر أن يكون المواضع عليه ترة في القيامة
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا کا ذکر ہر حالت میں مستحب ہے تاکہ وہ مقامات قیامت کے دن اس پر وبال نہ بنیں
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، وَمَا مَشَى أَحَدٌ مَمْشًى لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً، وَمَا أَوَى أَحَدٌ إِلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بھی کوئی شخص کسی محفل میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی، جب کوئی شخص کسی راستے پر چلتا ہے اور وہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 590، 591، 592، 853، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1814، 1815،وأبو داود فى (سننه) برقم: 4855، 4856، 5059، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3380، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9174» «رقم طبعة با وزير 850»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (78). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله ثقات، إلا أن فيه عنعنة الوليد وهو مدلس.