صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
355. باب الأدعية - ذكر الخصال التي يرتجى للمرء باستعمالها زوال الكرب في الدنيا عنه
دعاؤں کا بیان - اس خصلتوں کا ذکر جن کے استعمال سے آدمی کو دنیا میں تنگی کے زائل ہونے کی امید کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 971
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلاثَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لأَهْلِهِمْ، فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَلَجَئُوا إِلَى جَبَلٍ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: عَفَا الأَثَرُ، وَوَقَعَ الْحَجَرُ، وَلا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلا اللَّهُ، ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي، فَطَلَبْتُهَا، فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَجَعَلْتُ لَهَا جُعْلا، فَلَمَّا قَرَّبَتْ نَفْسَهَا، تَرَكْتُهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا. فَزَالَ ثُلُثُ الْجَبَلِ. فَقَالَ الآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ، وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا، فَإِذَا أَتَيْتُهَا، وَهُمَا نَائِمَانِ، قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ. فَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَوْمًا فَعَمِلَ لِي نِصْفَ النَّهَارِ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ فَتَسَخَّطَهُ وَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَقُلْتُ: خُذْ هَذَا كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ أُعْطِهِ إِلا أَجْرَهُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا. قَالَ: فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ" فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ" بِمَعْنَى قَوْلِهِ: فَوَفَّرْتُهَا لَهُ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُوقِعُ" عَلَيْهِ" بِمَعْنَى لَهُ. وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ سَمِعَ، أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ، لأَنَّهُ بِهَا نَشَأَ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ لِخُرُوجِهِ عَنْهَا فِي يَفَاعَتِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے کے زمانے میں تین لوگ اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے کہ راستے میں بارش شروع ہو گئی، وہ پہاڑ کی پناہ میں آ گئے تو ان پر ایک پتھر آ کر گر گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہمارے قدموں کے نشانات ختم ہو گئے ہیں اور پتھر آ کر گر گیا ہے، اب تمہاری اس جگہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو کچھ علم نہیں ہے، لہٰذا تم اپنے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد وسیلے کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ ایک عورت مجھے بہت پسند تھی، میں نے اس کے قرب کا مطالبہ کیا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی، پھر میں نے اسے معاوضہ دیا، جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے اسے چھوڑ دیا، اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید کرتے ہوئے اور تیرے خوف سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو ایک تہائی پہاڑ (یعنی پتھر) اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے، میں ان کے لیے ان کے برتن میں دودھ دوہ لیا کرتا تھا، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ دونوں سوئے ہوئے تھے، میں کھڑا ہو کر انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے اسے پی لیا، اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایسا تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا، تو ہم سے اس مشکل صورتحال کو دور کر دے۔ تو (مزید) ایک تہائی پتھر ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایک دن ایک شخص کو مزدور رکھا تھا، اس نے نصف دن تک میرے لیے کام کیا، میں نے اسے اس کا معاوضہ دیا تو اس نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اسے وصول نہیں کیا، تو میں نے اس معاوضے کے ذریعے آگے کام شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ بہت سا مال ہو گیا، وہ شخص اپنا معاوضہ وصول کرنے کے لیے آیا تو میں نے کہا: یہ ساری چیزیں تم لے لو، حالانکہ اگر میں چاہتا تو میں اس وقت اس کو صرف اس کا معاوضہ دے سکتا تھا، اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”تو میں نے اس پر زیادہ کیے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اس کے لیے زیادہ کیا، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں لفظ «عَلَی» کو «لَہٗ» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ سعید بن ابوالحسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں احادیث کا سماع کیا ہے، کیونکہ ان کی نشو و نما وہیں ہوئی تھی، اور حسن ان سے احادیث کا سماع اس لیے نہیں کر سکے کیونکہ وہ بچپن میں مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 971، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2461، 2462، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12649، 12651» «رقم طبعة با وزير 967»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [عِمْرَانُ الْقَطَّانُ] قال الشيخ: هو ابن داود، وهو وسطٌ حَسنُ الحديث، قال الحافظ: «صدوق يهم». ومن طريقِهِ: أخرجه البزَّار (1869)، الطبرانِيُّ في «الأوسط» (1/ 137 / 1/ 2630)، وقال: «لم يروه عن قتادة عن سعيد بن أبي الحسن إِلاَّ عمران». وله عنده (1/ 281 / 1/ 2734) طريقٌ آخر، يَرويهِ داهر بن نوح، قال: نا عبد الله بن عَرَادةَ، قال: نا داود بن أبي هند، عن أبي العالية، عن أبي هريرة ... نحوه، وقال: «لم يروه، عن داود إلاَّ عبد الله بن عرادة، تَفَرَّد به داهر». قلت: ذكره المُؤلِّف في «الثقات» (8/ 238)، وقال: «ربما أخطأ». وقال الدارقطني: «ليس بالقويّ». فمثلُه يُستَشهدُ بِهِ. لكنَّ شَيْخهُ ابن عَرادةَ ضَعِيفٌ. إِلاَّ أَنَّ للحديثِ شَوَاهِدَ كثيرةً، عن جَمعٍ مِنَ الصَّحَابة؛ منهم ابن عمر وقد تقدم (894) وله طريقٌ ثالثٌ، عن أبي هريرة: رواه البزَّارُ (1866)، وَسَندهُ صَحِيحٌ على شرطِ مُسلمٍ. تنبيه!! رقم (894) = (897) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عمران القطان: صدوق يهم، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير عمرو بن مرزوق، فمن رجال البخاري.