🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب فضل الوضوء - ذكر حط الخطايا بالوضوء وخروج المتوضئ نقيا من ذنوبه بعد فراغه من وضوئه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور وضو کرنے والا اپنے وضو کے بعد اپنے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1040
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبَجٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، وَمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مومن بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یا اس کی مانند کوئی اور الفاظ ہیں، اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے تو اس سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے پکڑا تھا، پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ شخص گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 244، ومالك فى (الموطأ) برقم: 85، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 4، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1040، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2، والدارمي فى (مسنده) برقم: 745، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8135، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 155، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 180، 181» «رقم طبعة با وزير 1037»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 94): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں